Sajda Sahu ke Masail aur Tarika
سجدہ سہو کا بیان
نماز میں بھول کر کبھی کمی پیشی ہو جاتی ہے اس کی تلافی کے لیے آخری قعدہ میں عبدہ و رسول تک التحیات پڑھ کر دو سجدے کیے جاتے ہیں اس کو سجدہ سہو کہتے ہیں یعنی 'بھول کا سجدہ' سہو کے معنی بھول کے ہیں
مسئلہ کسی واجب کے چھوٹ جانے سے یا واجب یا فرض میں تاخیر کرنے یعنی دیر ہو جانے سے یا کسی فرض کو اس کی جگہ سے ہٹا کر پہلے کر دینے سے یا کسی فرض کو دوبارہ ادا کرنے سے مثلا دو رکوع کر دیے ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے اگر بھولے سے ایسا ہوا ہو اور اگر قصدا کیا ہے تو سجدہ سو سے کام نہ چلے گا بلکہ نماز دہرانا واجب ہوگا
مسئلہ فرض چھوٹ جانے کی تلافی سجدہ صحو سے نہیں ہو سکتی ہے اس صورت میں نماز کو دوبارہ پڑھنا ہوگا اگرچہ بھول کر چھوٹا ہے
مسئلہ اگر کسی نماز میں بھول کر کئی باتیں ایسی پیش اگئی جن سے سجدہ سو واجب ہوتا ہے تو سب کی تلافی کے لیے صرف ایک ہی بار سہو کے دو سجدے کر لینا کافی ہے
مسئلہ جن چیزوں سے فرض نمازوں میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ان سے نوافل سنن اور وتروں میں بھی واجب ہو جاتا ہے
مسئلہ امام سے اگر کوئی ایسا کام ہو جائے جس سے سجدے سوم واجب ہوتا ہے تو مقتدیوں پر بھی سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا اور مقتدی کی بھول سے نہ اس پر سجدہ سہو واجب ہے نہ امام پر
مسئلہ جس کی کچھ رکعتیں چلی گئی ہوں وہ امام کے سلام کے بعد جب اپنی نماز پوری کرنے لگے اور اس وقت کوئی کام بھول سے ایسا ہو جائے جس سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے تو اخری قعدہ میں سجدہ سہو ادا کرے
مسئلہ سجدہ سہو واجب ہونے کا قاعدہ کلیہ ہم نے اس سلسلے بیان کے شروع میں لکھ دیا ہے اب اسانی کے لیے چند صورتیں بطور مثال لکھ دیتے ہیں جن سے سجدہ سو واجب ہو جاتا ہے وہ یہ ہے
فرض نماز کی پہلی رکعت یا دوسری رکعت یا ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ چھوٹ جانے یا سورہ فاتحہ دو بار پڑ جانے سے نماز واجب یا نماز سنت یا نفل کی کسی بھی رکعت میں سورہ فاتحہ چھوٹ جانے سے یا دو بار پڑ جانے سے سورہ فاتحہ سے پہلے سورت پڑھ جانے سے فرض نماز کی تیسری رکعت اور چوتھی رکعت کے سوا ، نماز کی کسی بھی رکعت میں سورت چھوٹ جانے سے کسی رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کر لینے سے اخر میں تشہد یعنی اتحیات چھوٹ جانے سے ، عبدہ ورسولہ کے بعد درود شریف بقدر اللہم صلی علی محمد پڑ جانے سے یا اتنی دیر خاموش بیٹھے رہنے سے امام کو جن رکعتوں میں زور سے قرات مسنون ہے ان میں آہستہ بڑھ جانے سے اسی طرح جن رکعتوں میں امام کو آہستہ پڑھنا ہے ان میں زور سے قرات کر دینے سے قرات میں بھول ہو جانے پر بقدر تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے غور و فکر میں خاموش رہ جانے سے یا اتنی دیر تک سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھنے کے لیے خاموش رہنے سے وتروں میں دعائے قنوت بھول جانے سے قعدہ اولی چھوڑ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جانے سے وغیرہ وغیرہ
مسئلہ اگر دوسری رکعت کے بعد بھولے سے اٹھنے لگے تو جب تک بیٹھنے کے قریب ہو بیٹھ جائے اور اس صورت میں سجدہ سہو کی ضرورت نہیں اور اگر اتنا اٹھ گیا ہے کہ کھڑے ہونے کے قریب ہو چکا ہے اور اب یاد ایا ہے تو سیدھا کھڑا ہو جائے اور اخر میں سجدہ سہو کر لے
سجدہ سہو کا طریقہ
سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخر میں تشہد یعنی التحیات میں 'عبدہ و رسولہ' تک بڑھ کر دائنی طرف سلام پھیر کر اللہ اکبر کہتے ہوئے دو سجدے کرے اور دو سجدے کر کے بیٹھ جائے اور دوبارہ پوری اتحیات اور اس کے بعد درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دے
مسئلہ اگر دونوں طرف سلام پھیر کر یاد ایا کہ میرے ذمہ سجدہ سہو ہے تو جب تک کسی سے بات نہ کی ہو اور سینہ قبلہ سے نہ پھرا ہو اور کوئی کام ایسا نہ ہو گیا ہو جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے تو اب بھی سجدہ کر لے
Read also👇👇👇
Jamat-se-namaz-padhne-ke-zaruri-masail
Post Comment
No comments