Moshare ke Aadab
مشورے کے اداب
مشورہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے صحابہ کی صفت ہے اور ہماری ضرورت ہے
مشورہ تین چیزوں کا ہو 1 . 24 گھنٹے کے امور طے کر لیں 2 . ہم جیسے اللہ کے راستے میں نکلے ہیں ویسے یہاں کے لوگ کیسے اللہ کے راستے میں نکلنے والے بنے اس کا مشورہ کریں 3. اگر اس مسجد میں مسجد وار جماعت بیٹھتی ہو تو اسے مضبوط کریں اور اگر نہ بیٹھتی ہو تو اسے بٹھانے کی فکر کریں
مشورے میں سارے عالم کی فکر کو لے کر بیٹھیں دین کا زیادہ سے زیادہ فائدہ دیکھ کر رائی دیں
مشورے میں ماننے کے جذبے سے بیٹھیں نہ کی منوانے کے جذبے سے
اپنی رائے کو امانت سمجھ کر دیں کسی ساتھی کی رائے کو نہ کاٹیں
خدمت اور اعلان میں خود کو پیش کریں دوسرے امور میں رائی دیں
اپنی رائے پر اصرار نہ کریں
مشورہ دلوں کا جوڑ ہے فکروں کا نچوڑ ہے
مشورے سے پہلے مشورہ نہ کریں اور مشورے کے بعد اس کا تذکرہ نہ کریں
مشورے سے پہلے مشورہ سازش ہے اور مشورے کے بعد مشورہ بغاوت ہے
مشورے میں اکثریت اور اقلیت کی کوئی اہمیت نہیں
مشورے سے پہلے سب کی رائے الگ الگ ہوتی ہے مگر مشورے کے بعد سب کی رائے ایک ہو جاتی ہے
ہر اہم کام چاہے دین کا ہو یا دنیا کا اس میں مشورہ کریں مگر عورتوں اور نابالغ بچوں کو امیر نہ بنائیں
مشورہ کر کے جو کام میں نقصان ہوتا ہے اس کا افسوس نہیں ہوتا مشورہ ندامت سے بچنے کا بہترین قلعہ ہے
مشورے میں تین فقروں کو لے کر بیٹھیں
اپنی ذات کی فکر کہ میری زندگی میں اللہ کا دین کیسے ائے
جس بستی میں ہم ہیں اس کی فکر کہ کیسے اس بستی میں اللہ کا دین زندہ ہو جائے
پورے عالم کی فکر کہ کیسے پورے عالم میں اللہ کا دین زندہ ہو جائے
Read also....
Post Comment
No comments