Kufr aur Shirk ke Masail

 کفر اور شرک کا بیان 
کفر اور شرک کسے کہتے ہیں 

جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے کسی ایک بات کو بھی نہ ماننا کفر ہے مثلا کوئی شخص خدا تعالی کو نہ مانے یا خدا تعالی کی صفات کا انکار کرے یا دو تین خدا مانے یا فرشتوں کا انکار کرے یا خدا تعالی کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا انکار کرے یا کسی پیغمبر کو نہ مانے یا تقدیر سے منکر ہو یا قیامت کے دن کو نہ مانے یا خدا تعالی کے قطعی احکام میں سے کسی حکم کا انکار کرے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی کسی خبر کو جھوٹا سمجھے تو ان تمام صورتوں میں کافر ہو جائے گا 

اور شرک اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالی کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرے خدا تعالی کی ذات میں شرک کرنے کا کیا معنی ہے ذات میں شرک کرنے کے معنی یہ ہیں کہ دو تین خدا ماننے لگے جیسے عیسائی کے تین خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہیں اور جیسے اتش پرست کے دو خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہوئے اور جیسے بت پرست کے بہت سے خدا مان کر مشرک ہوتے ہیں 

Kufr aur Shirk ke Masail


صفات میں شرک کرنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی صفات کی طرح کسی دوسرے کے لیے کوئی صفت ثابت کرنا شرک ہے کیونکہ کسی مخلوق میں  خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی ولی ہو یا شہید پیر ہو یا امام خدا تعالی کی صفتوں کی طرح کوئی صفت نہیں ہو سکتی 

شرک فی الصفات کی بہت سی قسمیں ہیں یہاں پر ہم چند قسموں کا ذکر کر دیتے ہیں 

شرک فی القدرت یعنی خدا تعالی کی طرح صفت قدرت کسی دوسرے کے لیے ثابت کرنا مثلا یہ سمجھنا کہ فلاں پیغمبر یا ولی یا شہید وغیرہ پانی برسا سکتے ہیں یا بیٹا بیٹی دے سکتے ہیں یا مرادیں پوری کر سکتے ہیں یا روزی دے سکتے ہیں یا مارنا جلانا ان کے قبضے میں ہے یا کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے پر قدرت رکھتے ہیں یہ تمام باتیں شرک ہیں 

شرک فی العلم یعنی خدا تعالی کی طرح کسی دوسرے کے لیے صفت علم ثابت کرنا مثلا یوں سمجھنا کہ خدا تعالی کی طرف فلاں پیغمبر یا ولی وغیرہ عْیب کا علم رکھتے تھے یا خدا کی طرح ذرہ ذرہ کا انہیں علم ہو یا ہماری تمام حالات سے واقف ہیں یا دور نزدیک کی چیزوں کی خبر رکھتے ہیں یہ سب شرک فی العلم ہے 

شرک فی السمع والبصر یعنی خدا تعالی کی صفت سمیع یا بصر میں کسی دوسرے کو شریک کرنا مثلا یہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں پیغمبر یا ولی ہماری تمام باتوں کو دور و نزدیک سے سن لیتے ہیں یا ہمیں اور ہمارے کاموں کو ہر جگہ سے دیکھ لیتے ہیں سب شرک ہے 

شرک فی الحکم یعنی خدا تعالی کی طرح کسی اور کو حاکم سمجھنا اور اس کے حکم کو خدا کے حکم کی طرح ماننا مثلا پیر صاحب نے حکم دیا کہ یہ وظیفہ نماز عصر سے پہلے پڑھا کرو تو اس حکم کی تعمیل اس طرح ضروری سمجھے کہ وظیفہ پورا کرنے کی وجہ سے عصر کا وقت مکروہ ہو جانے یا نماز قضا ہو جانے کی پرواہ نہ کرے یہ بھی شرک ہے 

شرک فی العبادت یعنی خدا تعالی کی طرح کسی دوسرے کو عبادت کا مستحق سمجھنا مثلا کسی قبر یا پیر کو سجدہ کرنا یا کسی کے لیے رکوع کرنا یا کسی پیر پیغمبر ولی امام کے نام کا روزہ رکھنا یا کسی کی نظر اور منت مانی یا کسی قبر یا مرشد کے گھر کا کھانا کعبہ کی طرح طواف کرنا یہ سب شرک فی العبادت ہے 

ان باتوں کے علاوہ اور بھی بہت سارے افعال شرکیہ ہیں ان تمام کاموں سے پرہیز کرنا لازم ہے وہ کام یہ ہے نجومیوں سے عْیب کی خبریں پوچھنا پنڈت کو ہاتھ دکھانا کسی سے  فال کھلوانا چیچک یا کسی اور بیماری کی چھوت کرنا اور یہ سمجھنا کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے تازیہ بنانا علم اٹھانا قبروں پر چڑھاوا چڑھانا نظر و نیاز  گزارننا خدا تعالی کے سوا کسی کے نام کی قسم کھانا تصویریں بنانا یا تصویروں کی تعظیم کرنا کسی پیر یا ولی کو حاجت روا مشکل کشا کہہ کر پکارنا کسی پیر کے نام کی سر پر چوٹی رکھنا یا محرم میں اماموں کے نام کا فقیر بننا قبروں پر میلے لگانا وغیرہ وغیرہ

No comments